کالم

مرسی شہید، اسلامی تحریکیں اور امت مسلمہ

Muhammad Morsi Shaheed Egypt - Ikhwan ul Muslimoon

محمد مرسی جب اقتدار میں آئے تو ہم خوشی سے جھوم اٹھے تھے، جیسے کوئی اپنا بہت ہی قریبی دل پسند عزیز ایک دم سے اقتدار میں آجائے۔ دل باغ باغ بھی تھا سر رب کے حضور شکر کے جذبات سے مغلوب سر بسجود بھی۔ دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں میں کس قدر مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی تھی۔ رجب طیب ایردوان، راشد غنوشی، خالد مشعل، گلبدین حکمت یار، سید منورحسن، سید علی گیلانی، سبھی نے اپنی قریب و جوار میں ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی ہوں گی۔ امت مسلمہ کی کامیابی پر شاداں و فرحاں سب۔

عرب بہار سازش تھی، فسانہ تھا یا کچھ اور۔ بہرحال مصر میں اخوان کی حکومت وقت کے طاغوت کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ دنیا بھر میں جمہوریت کا راگ الاپ کر اپنے آپ کو مہذب دنیا باور کروانے والوں نے مصر میں جمہوریت کے وحشت انگیز قتل عام پر بدترین منافقت کا ثبوت دیا۔ امریکہ و اسرائیل کی اشیرباد اور سعودی و اماراتی شہنشاہوں کے ایما پر فرعون مصر جنرل سیسی نے اسلام پسند محمد مرسی کا تختہ الٹ کر امت مسلمہ کو عظیم سانحے سے دوچار کر دیا۔

آہ وہ رابعہ کا میدان! محمد مرسی کی اسیری پر بطور احتجاج رابعہ جب مقتل بنا تو یہ عظیم غم کی گھڑی تھی۔ اس دن سے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کے سب کارکنوں کے کلیجے چھلنی ہیں۔ رابعہ کے مقتل نے سب کو رُلایا، اور خوب رُلایا۔ رابعہ میں شہید ہونے والے خاندان آج کی جدید مادہ پرستانہ دنیا میں جرات، عزیمت اور استقامت کی لازوال داستانیں رقم کر گئے۔ اور پھر مصر سے مراکش، فلسطین سے استنبول، قطر سے کراچی، لاہور سے ڈھاکہ، اور دنیا بھر میں سڑکوں پر اسلامی تحریکوں کے کارکنان اور عام مسلمان اُمڈ آئے اور سب نے “کلنارابعہ” کا اعلان کر دیا، چار انگلیوں کا نشان چہار سو مقبول ہو گیا۔ ہمیشہ کے لیے دل کی دھڑکن بن گیا۔

پھر محمد مرسی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پابند سلاسل کر دیے گئے، بالکل ایسے جیسے ہمارے دل قید کر دیے گئے ہوں۔ جب بھی عدالت لگتی تو ہم کسی خبر کسی تصویر اور کسی ویڈیو کے منتظر رہتے۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہمارے صدر مرسی کی مسکراہٹ ہمیں جینے کا حوصلہ دیتی، سلاخوں کے پیچھے ہماری بہنوں کی نعرے لگاتی ویڈیوز ہمارے دلوں میں ایمان اور غیرت کی چنگاری سلگائے رکھتیں۔

خبر گردش میں تھی کہ صدر محمد مرسی کو بتدریج زہر دیا جارہا ہے، ایسا ماحول، خوراک اور ادویات کہ رفتہ رفتہ زندگی کی سانس خود ہی اکھڑ جائے۔ شاید سعودی و اماراتی شہنشاہ اور جنرل سیسی میں محمد مرسی کو تختہ دار پر لٹکانے کی کالک منہ پر ملنے کا حوصلہ نہ پڑتا ہو۔ مگر انہیں کیا معلوم کہ مرسی کا اقتدار الٹنے والوں اور رابعہ کا قتل عام کرنے والوں کے چہروں پر تاقیامت کالک مل دی گئی ہے۔

آہ مرسی شہید اپنے رب سے جا ملے! جنت میں ان کا استقبال کیا ہوگا۔ حسن البنا، سید مودودی، عمر تلمسانی، سید قطب، عبدالقادر عودہ۔ اور سب سے بڑھ کر نبی مہربان ❤صلی اللہ علیہ وسلم ❤

اخوان نے آج پھر رلا دیا ہے، دکھی کر دیا ہے۔ لوگ پوچھتے ہیں کس امت کی بات کرتے ہو؟ ہم کہتےہیں جو آج مغموم ہے، اس امت کی بات کرتے ہیں۔ رنگ، نسل، مُلک، زبان کی قید سے آزاد۔ حقیقی امت مسلمہ۔

آج ایک بار پھر یہ اُمّت مغموم ہے

نوحہ کناں ہے، فریادی ہے

اور بقول نعیم صدیقی

میرے حضور دیکھیے، پھر آگیا مقام غمبسایۂ صلیب پھر بھرے ہیں ہم نے جام غم

کنارے نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم

میرے حضور ﷺ دیکھیے

مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا (القرآن) مؤمنوں میں کتنے ہی ایسے لوگ ہیں کہ جو عہد اُنہوں نے اللہ سے کیا تھا اس کو سچ کر دکھایا۔ تو ان میں بعض ایسے ہیں جو اپنی نذر پُوری کر چُکے اور بعض ابھی مُنتظر ہیں اور اُنہوں نے (اپنے قول کو) ذرا بھی نہیں بدلا

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment