کالم

فیض کی موت

فیض میلے میں جانے کیلئےمیری کولیگ انعم قریشی  نے ایک عرصے سے  پروگرام طے کر رکھا تھا ۔۔۔ ہم بہت سے دوستوں نے دوسرے دن  کاپلان کیا  مگرمیر ی طبیعت ناساز ہو گئی  جس کے باعث میں اگلے دو دن آفس بھی نہ آسکا ،   سوموار کو آفس پہنچا تو انعم دیکھتے ہی  بول پڑی  حسان صاحب آپ آئے کیوں نہیں اتنا مس کیا  آپ کو ۔۔ پھر خود ہی تفصیلات بتانے لگی ،

میں  نے تینوں دن اٹنڈ کیا ، پہلے دن   شبانہ اعظمی کو سنا ،بہت خوبصورت آواز ہے ان کی تو، مزا آیا سن کر ، اگلے روز جاوید اختر کو سنا ، ان کی شاعری  انکی نظمیں  ۔۔واہ کیا کمال ہے ۔۔سن کا بہت لطف آیا ،  ضیا محی الدین  کا پاس نہیں تھا ، بڑے پاپڑ پیل کر ہال میں  جا سکی تھی ،  سچ  میں  بہت مزا آیا ۔۔


 انعم بولتی جاری تھی کہ ایک رپورٹر( فرضی نام ارم سمجھ لیں) آگئی ، بیٹھتے ہی کہنے لگی ہائے فیض فیسٹول کی بات ہو  رہی ہے ، سر حسان میں بھی گئی تھی وہاں تو  اتنا مزا آیا ۔۔میں نے پٹھورے کھائے ،کشمیری چائے پی ، وہ عرفان ،،کیا نام ہےاس کا بھلا ہاں عرفان گھوسٹ ۔۔میں نے اس کے ساتھ تصویر بنائی ۔۔سر  یہ تصویر دیکھیں ایسا پوز کیا جیسے ہم اچھے سے دوست ہوں ۔۔
ارم تو تیز تیز بولتی جارہی تھی  
مگر اصل لطف اس وقت آیا جب میں نے کہا کہ

 تم سارا دن فیض میلے میں گھومتی پھرتی رہی ہو  اور فیض سے ملے بغیر ہی آگئی ؟ حد ہے ہے بھئی ۔
 میں نے  ناراضگی اور اچھنبے کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا تو ارم ایک دم حیرت سے میرا منہ تکنے لگی ، پھر ذرا رک سی گئی۔۔ اب اس کے چہرے پر پریشانی اور خجالت کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے  ذرا ہکلا کر بولی
س سر فیض ۔۔۔زندہ ہیں کیا ؟ 
میں نے ذرا غصے سے کہا کہ حد ہو گئی ہے اب کسی کے سامنے نہ پوچھ لینا ۔۔
 تو پھر سر وہاں نظر تو نہیں آئے کہاں تھے وہ ؟ ۔۔۔۔
 ارم  اب بالکل نروس ہوچکی تھی ، میں نے کہا تم سارا دن باہر  خوش گپیوں  ،کھابوں اور  سلیفیوں میں مصروف رہی تمھیں کیا پتہ وہ تو مستقل اندر ہال میں موجود رہےہیں  ،اب ارم  کو ذرا شرمندگی ہونے لگی  تھی ، کہنے لگی
کہیں ان کا ساٹ تو چلتا نظر نہیں آیا ،
میں نے کہا کہ بوڑھے ہوچکے ہیں ملنے کی اجازت نہیں ملتی ،
کہتی  ہے ۔۔۔سر مجھے ان کا ایڈریس بتادیں میں  رپورٹر ہوں آخر  ان کا ساٹ کر ہی لاؤں گی ،
 اب وہ ادھر ادھر ٹہلنے لگی کچھ دیر بعد پلٹی تو غصے میں تھی سر آپ سب لوگ مجھے چیٹ کر رہے تھے ہم نے پوچھا کیا ہوا ہے ، کہنے لگی میں گوگل پر دیکھ لیا فیض 1911 میں پیدا ہوئے تھے اور1984میں فوت ہوگئے تھے ۔۔۔
میں نے  دھمیے لہجے میں کہا کہ کہ نہیں فیض تو  میری نظر گزشتہ برس فوت ہوگئے تھے جب  میلے میں تمھاری طرح کی ایک لڑکی ان سے ملنے کیلئے انہیں ڈھونڈتی پھر رہی تھی ۔۔۔ اس پر میں نے تحریر بھی لکھی تھی ۔۔فیض مر چکے ہیں ۔۔کے عنوان سے ۔
اب  ارم کی باتیں سن کر لگ رہا ہے کہ فیض دوبارہ  مر چکے ہیں ۔۔۔
انعم جیسی فیض لورز کو فیسٹیویٹی سے غرض نہیں ۔
جبکہ ارم جیسی لڑکیوں کو فیض کے نظریات ،ادب اور مزاحمتی استعاروں   سے غرض نہیں
عجیب طرفہ تماشا ہے کہ فیض فیسٹول ہی فیض کی موت کا باعث بننے لگا ہے ۔۔
پکے سوشلسٹ انقلابی فیض  کو انکے گھر والے ہی مارنے لگے ہیں ،
جس  کیپیٹل  ازم سے ٹکرانے کی پاداش میں فیض پابند سلاسل رہے ان کے  گھر والے  اسی سرمایہ دارانہ نظام کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہوچکے ۔
فیض کے ساتھ  ،بادہ نسیم کے ساغر چھلکا کر عہد وفا استوار رکھنے والے اسکے ساتھی   سوشلزم کی پسپائی کے بعد  تاریخی یو ٹرن لے کر  امریکی سامراج کی جھولی میں آگرے ہیں
 فیض  جس ظلمتوں کی ماری صبح سے اعلان برات کرتے رہے ان ہم مذہب   اب  سرمائے کے بل بوتے پر جنم لینے والی چکا چوند کو   امید سحر قرار دینے لگے ہیں
فیض کا کہنا تھا کہ
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں، انگلیاں میں نے
زباں پہ مہر لگی ہے تو کیا، کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے
خون جگر سے انگلیاں کشید کرنے والے شاعر کو کمرشلائز کرنا اسکے نظریات کو دفن کرنا ہی تو ہے ۔

فیض فیسٹول بھی کیا  عجیب ہے فیض کا نام زندہ کرتا ہے اور اسکے افکار کا جنازہ نکال دیتا ہے ۔ 

About the author

ایڈمن

3 Comments

Click here to post a comment