کالم

سنجرانی جیت گیا ، کپتان ہار گیا

“خان ہار گیا ۔۔۔ عمران خان کو مستعفی ہوجا نا چاہیے ۔۔ کپتان نے مایوس کر دیا ہے” ۔
تبدیلی کے نعرے کے سحر میں گرفتار رہنے والے برطانیہ کی اعلیٰ یونیورسٹی کے ڈگری ہولڈر کولیگ کے منہ نکلنے والے ان الفاظ پر میں بھی چونک گیا ۔۔
بٹھا کر پوچھا ارے حضرت۔۔۔! الیکشن چئرمین سینیٹ کا ہوا ہے وزیر اعظم کو بیچ میں کیوں گھسیٹ لیا ۔۔۔ ۔؟

میرے پروڈیوسر دوست نے جھنجھلا کر کہا ۔۔۔
“چونسٹھ ارکان نے ہاتھ کھڑا کیا تو خفیہ رائے دہی میں یہ تعداد کم کیوں ہو گئی ؟ اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ ارکان کسی لالچ یا دباؤ کا شکار ہوئے ہیں ۔
خفیہ رائے دہی کے ایسے ہی نتائج کی وجہ سے کپتان نے ساری زندگی اس نظام کی مخالفت کی تھی ۔
اب جب کپتان اقتدار میں ہے تو اُسی نظام کو کیوں لاگو کیا ہوا ہے ؟ کون سی ایسی مجبوری ہے ؟

میرا دوست مسلسل بولے جارہا تھا ۔ ۔ ۔
” کپتان نے ہمیشہ برطانوی پالیمانی نظام کے گن گائے ، اُسی کو آئیڈلائز کیا ، اُسے جمہوریت کی ماں قرار دیا ۔
برطانوی پالیمنٹ میں خفیہ رائے دہی کا کوئی دستور نہیں ، ہمیشہ اوپن رائے شماری ہوتی ہے ۔ کون کس کے ساتھ ہے سب کچھ سب کے سامنے ہوتا ہے ۔

عمران خان ، وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی اگر اپنے اعلانات اور اصولوں کو عملی جامہ نہیں پہنا سکتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ڈمی ہیں ۔
یہ عمران کی شکست ہے۔۔۔ یہ تو پھر تبدیلی نہ ہوئی اگر وہی گھسا پٹا نظام چلنا ہے تو پھر تبدیلی کیا ہوئی ۔۔۔ ؟”

ماضی میں عمران کی محبت میں گرفتار رہنے والا میرا پیارا دوست اپنے عہد کے طاقتور ترین وزیر اعظم سے شدید مایوس دکھائی دے رہا تھا ۔۔
(اتنا طاقتور وزیر اعظم کہ امریکی صدر ٹرمپ بھی جسے عزت سے ملے ۔۔۔جس کے آرمی چیف کو پینٹاگون میں اکیس توپوں کی سلامی دجا جائے ۔جو فخریہ اعلان کرے کہ اس وقت سول ملٹری تعلقات مضبوط ترین دور سے گزر رہےہیں اور ہم ایک ہی پیچ پر ہیں ۔ )

میرا جمہوریت پسند دوست اب کپتان کی تبدیلی کو باقاعدہ کوسنے دے رہا تھا
میں خاموشی سے الیکشن سے چند روز قبل لکھی گئی اپنی ہی تحریر اسے دکھانے لگا جس کا حاصل الحصول یہ تھا کہ ۔۔۔ تبدیلی کا نعرہ illusion ہے۔ دھوکہ۔۔ سراب۔۔ فریب نظر ۔۔۔ !
بس اتنی عرض کی کہ جناب
حقیقت کسی پر پہلے آشکار ہو جاتی ہے اور کسی پر تجربے کے بعد عیاں ہوتی ہے ۔

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment