کالم

ٹیمپرڈ وکٹری

فٹ بال کے بعد کرکٹ دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے ، کرکٹ میں بیٹسمین چھکے لگا کر شائقین   پر سحر طاری کر دیتا ہے تو باولر  وکٹ لے کر شائقین کے دل موہ  لیتاہے ۔
مخالف کھلاڑی کی وکٹ گرانے سے جیت کا نشہ  باولر کے پورے وجود میں سرایت کر جاتا ہے ،  جیت کے اس نشے کو حاصل کرنے اور برقرار رکھنے کیلئے ہر کھیل کی طرح باولنگ میں بھی بہت سے غیر قانونی  طریقے دریافت ہو کر اپنائے جانے لگے ۔ ۔انہیں غیر قانونی طریقوں میں ایک بال ٹیمپرنگ بھی ہے۔

بال ٹیمپر نگ میں  باولر گیند کو خفیہ طور پر  مختلف انداز سے کھرچ کر اپنی مرضی  کے نتائج حاصل کر لیتاہے ۔
ماضی میں چونکہ کیمروں کا گیند پر مسلسل  فوکس نہیں ہوتا تھا اس لئے ٹیمپرنگ میں مہارت رکھنے والے باولر ناخن سے ٹراوزر کی زپ سے حتی کہ  بول کے ٹھکن وغیرہ  غرض کسی بھی چیز سے گیند کو کھرچ لیا کرتے تھے ، جسے اب شعور ،آگاہی ، کیمروں کی سخت مانیٹرنگ اور قوانین کے ذریعے تقریباً ناممکن بنا دیا گیا ہے
 کرکٹ سے عالمی شہرت پانے والے عمران خان  بھی بنیادی طور پر  فاسٹ باولر ہی  تھے ، ان کی  کرکٹ کی زندگی تیز رفتار گیند سے مخالف کھلاڑیوں  کی وکٹیں  اُڑاتے گزری ، کچھ  عرصے بعد وہ بہترین آل راونڈر اور  کامیاب کپتان کے طور پر  پاکستان اور کرکٹ کا لازمی جزو سمجھے جانے لگے۔
عمران  خان  بھی  دوران کھیل بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہوئے  اپنی مرضی کے نتائج کے حصول کیلئے بال ٹیمپرنگ کرتے رہے۔ (سرفراز نواز اور عمران بال ٹیمپرنگ کے بانی بھی سمجھے جاتے تھے ) ۔
  اپنی پرکشش  شخصی وجاہت  نے ایک عرصہ تک  عمران کو کھیل کے میدان سے یورپ کے کلبوں تک کا  فیورٹ  سٹار بنائے رکھا ۔۔ ورلڈ کپ کی جیت نے عمران خان کو  ناقابل  شکست فاتح اور قومی ہیرو  کا درجہ دے دیا ۔۔۔اس کے بعد شوکت خانم اسپتال کی تعمیر سے ان  کی بطور کھلاڑی کی شہرت ایک ریفارمر کے طور پر نیک نامی میں اضافے کا سبب بن گئی ۔۔ عمران سیاست میں آئے  تو روایتی سیاست  کے برعکس اصولی نعروں کو سختی سے  اپنائے رکھا جس سے ان کی نیک نامی مسلمہ حقیقت کا روپ دھارنے لگی  ۔۔
عمران خان نے تن تنہا  17 سال ملک میں اصولی سیاست کا کلچر رائج کرنے کی جنگ کی ۔  عمران  کی جدوجہد کے نتیجے میں آہستہ آہستہ لوگوں میں روایتی سیاست ،اور اسٹیٹس کو کے خلاف  تبدیلی کی خواہش جنم لینے لگی ،
عمران نے لوگوں کو باور کرایا کہ ملک میں چند روایتی مفاد پرست  خاندانوں نے سیاست پر قبضہ کر رکھا ہے ، پاکستان کو دنیا میں باعزت مقام دلانے کیلئے  ان سے جان چھڑانا ناگزیر ہے ، عمران کی وجہ سے ملک میں خواتین اور نوجوانوں نے سیاست میں بڑھ چل کر دلچسپی لینا شروع کر دی اور کرپشن کے خلاف تبدیلی کا نعرہ ملک  میں  سیاسی شعور کی علامت بن کر ابھرنے لگا ۔۔۔۔
یہی وہ لمحہ تھا جب عمران خان نے اپنی سیاسی  اننگز کا بڑا اور فیصلہ کن یو ٹرن لے لیا
عمران نے تسلیم کرچکے  اصولوں کی بنیاد پر تبدیلی ممکن نہیں ، ہمیشہ جیتنے والے کپتان کو سیاسی میدان میں ہر صورت جیتنا تھا ۔  اور یوں  جیت کے حصول کیلئےعمران خان نے  بال ٹیمپرنگ کی طرح ،  سیاسی ٹیمپرنگ کا استعمال شروع کر دیا ۔
عمران خان ایک یو ٹرن لیتے ہی  یوٹرنز کی دلدل میں دھنستےچلے گئے ۔۔اپنے موقف میں سخت گیر اور اصولی سمجھے جانے والے  کپتان  نے سیاسی جیت کو ممکن بنانے کیلئے اپنے ہی اصولوں پر سمجھوتے شروع کر دئیے  یہ  درحقیقت عمران کی شکست تھی ، اس کے اصولوں ،خواہش اور نظریے کی شکست ۔تبدیلی کے فلسفے کی شکست ۔مگر عمران نے اپنے اصولوں کو  ہر صورت جیت  حاصل کرلینے کی دھن پر قربان کرتے ہوئے کمپرومائز کرلیا ۔
کپتان  نے اب وہی پرانے ٹیمپرنگ کرنے والے باولر کا روپ دھار لیا  تھا ،  اپنے منشور ،نعروں اور تقریروں  میں کرپشن کے خلاف ،تبدیلی کے حق میں ، ریاست مدینہ کے قیام جیسی تمام تر اصولی اور اخلاقی باتیں ہوتی رہیں مگر عملی طور پر اسٹیبلشمنٹ سے گٹھ جوڑ کر لیا گیا ، یعنی میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب۔۔اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے لگے ۔۔ وہی  مفاد پرست ابن الوقت روایتی سیاستدان جن  سے سیاست کو پاک کرنا تھا انہیں کو پیپلز  پارٹی ، ن لیگ اور ق لیگ سے اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے  نکال کر  نکال کر  اپنی  پارٹی کی جھولی میں  بھرنے لگے ۔۔
دھرنا سیاست کے بعد پانامہ لیکس عمران کیلئے نعمت غیر مترکبہ ثابت ہوئی ۔  اور پھر صرف دوسال  کی محنت کے ساتھ   ایمپائر سے ہم آہنگی ، مرضی کی پچ  اور الیکٹیبلز کی فوج ظفر موج کے ہمراہ 2018 کے الیکشن میں   عمران خان نے اس طرح کی ٹیمپرڈ باولنگ کی کہ اپنے سب سے بڑے سیاسی حریف   ن  لیگ کی وکٹیں اُڑا کر رکھ دیں ۔
 عمران  اب مر د میدان اور فاتح سلطان  بن چکے ہیں  ۔ ۔۔ اب اسٹیڈیم میں   مبارک سلامت اور جیت کے نعرے ہیں ۔۔جوش ، ولولہ اور  جنون   ہے ۔ 
ایسے میں کوئی بتائے کہ سر آپ نے تو  بال ٹیمپرنگ کی تھی۔۔ تو  اس سے کسی کو کیا سروکار ۔۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے ۔ ۔۔ 
ویسے بھی جیت کے منتظر شائقین  کو اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ٹیمپرنگ ہوئی یا نہیں ۔  انہیں بس  جیت چاہیے ہوتی ہے ۔۔ اور جیت دلانے والا ان کا محبوب سکندر ہوتا ہے
اب تو میچ جیتا جا چکا  ،کھیل تو دوبارہ نہیں ہو گا نا ۔
مبارک ہو کپتان ۔۔ 🙂

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment