کالم

فِکس کرو ۔۔۔۔۔ 👉👉👉

ہر سال مون سون آنے سے پہلے سیلابی صورتحال کی پیش گوئی کی جاتی ہے ۔۔۔ بارشیں کتنی ہونگی ؟ ڈیمز میں پانی کی سطح کہاں تک جا سکتی ہے ؟ دریاؤں، نالوں میں طغیانی کے کیا امکانات ہیں ؟ ان پیش گوئیوں کے نتیجے میں متعلقہ محکمے وارننگ جاری کرتے ہیں ، اور ہر ضلع اپنے اپنے زیر اثر انتظامات بروئے کار لاتا ہے ۔۔

جب بارشیں شروع ہو جاتی ہیں تو جہاں انتظامات نہیں ہوتے وہاں حالات قابو سے باہر ہو جاتے ہیں اور یوں میڈیا اور عوام محکموں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان کھڑا کرتے ہیں ۔؟ حکومت ان محکموں سے باز پرس کرتی ہے اور نااہلی دکھانے والوں کو فکس کیا جاتا ہے ۔ ۔

بالکل یہی صورتحال دہشت گردی کے واقعات میں بھی ہوتی تھی ۔۔ حساس اداروں کی جانب سے الرٹ جاری ہوجاتا تھا ، اور ہر الرٹ کے مطابق جگہوں پر چیکنگ اور دیگر اقدامات سخت کر دئے جاتے تھے اور متعدد بار بہت سے نقصان سے بچ بھی جا یا جاتا تھا ۔۔ ۔

جناب والا کشمیر کے معاملے میں بھی مودی سرکار نے اعلانیہ وارننگ جاری کی تھی ۔۔ دفعہ 370 کا خاتمہ اسکے انتخابی منشور میں شامل تھا ۔۔ مودی جیت گیا ۔۔ہم نے مبارکباد دے دی ۔۔ اس نے جیت کے بعد اپنے منشور پر عمل درآمد شروع کر دیا ۔۔ پھر مقبوضہ کشمیر سے آوازیں آنے لگیں کہ خطرہ بڑھ رہا ہے ۔۔ اور پھر 5 اگست کا دن یوم سیاہ بن کر کشمیریوں پر مسلط ہو گیا ۔۔۔

حضور والا ۔۔
سوال اٹھتا ہے کہ بھارت کی اس پیش قدمی پر پاکستان کی طرف سے کیا پیش بندی کی گئی تھی ۔۔؟
پیش بندی اگر نہیں تھی تو اس مجرمانہ عمل کا ذ٘مہ دار کون ہے ۔۔۔؟

کشمیر پر تجاویز اور اقدامات کیلئے حکومتی کمیٹی کا قیام یقیناً ضروری اور مثبت عمل ہے ۔

مگرپیش بندی نہ کرنے یا غیر موثر ہونے کا جواب کون دے گا ۔۔ ؟
غفلت کا مظاہرہ کرنے پر جائزہ کمیٹی بنتی ہے ۔
پالیمانی کمیٹی بنائیں یا جوڈیشل انکوائری کروائیں ۔

اس بات کا جائزہ ضروری ہے حضور ۔۔۔ !
بھارتی پیش قدمی کے مقابل پیش بندی نہ کرنا ثابت کرتا ہے کہ
آپ سازش میں شریک ہیں یا پھر انتہائی نااہل ہیں ۔

About the author

محمد حسان

Add Comment

Click here to post a comment