کالم

اخلاقیا ت بمقابلہ روایات


ہمیشہ سے قسمت کا سکندر رہنے والے نوازشریف کی قسمت کا ستارہ اب کہیں گم ہوگیا ہے کہ بھنور سے نکلنے کا کوئی راستہ ہی سجھائی نہیں دے رہا۔ پانامہ لیکس میں نام آنے کے بعد اندرونی اور بیرونی دونوں جانب سے ناموافق حالات ہی میسر آ رہے ہیں۔ یعنی جب دستاویزات کے فونٹ بھی دغا دینے لگیں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اب قدرت بھی مہربان نہیں رہی۔

نواز شریف نے مستعفی ہونے کے بجائے باد مخالف سے ٹکرانے اور ڈٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں آمدن سے زائد اثاثے بنانے، لندن فلیٹس کی ملکیت ظاہر نہ کر پانے کی باتیں سامنے آنے پر صوتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے سینئر صحافی دوست زاہد عابد سے پوچھا کہ کیا اخلاقی طور پر وزیراعظم کا استعفی دینا نہیں بنتا؟ انہوں نے کہا کہ “بنتا تو ہے مگر روایات بھی کوئی چیز ہوتی ہیں، ہمارے معاشرے میں اخلاقی طور مستعفی ہونے کی کوئی روایات موجود نہیں ہے”۔ بات میں دم لگا۔

پاکستان میں آج تک اخلاقی طور استعفیٰ دیا کس نے ہے؟ جرنیل، جج، سیاستدان۔ زمام کار جس کے ہاتھ میں بھی رہی، اس نے اپنے خلاف ہونے والی نہ تو کسی انکوائری کو منظر عام پر آنے دیا اور نہ ہی اپنا قصور ثابت ہونے پر اخلاقی طور پر استعفیٰ دیا۔ ڈھٹائی اور بےشرمی کے ساتھ ملک کو لوٹنے اور قوت کے ناجائز استعمال کو حق سمجھا گیا۔ اب حالیہ کیس میں وزیراعظم کو آمدن سے زائد اثاثے بنانے پر مستعفی ہونے کا کہا جا رہا ہے اور طرفہ تماشا ہے کہ اپوزیشن کا کرپٹ ٹولہ ہی یہ مطالبہ کر رہا ہے۔
 کیا لطیفہ ہے کہ چھوٹے چور بڑے چور کی کرسی کھینچنے کے لیے متحد ہونے لگے ہیں۔ اخلاقی طور پر استعفے کا مطالبہ کرنے والوں میں سوائے سراج الحق کے کون ایسا ہے کہ جس کی اخلاقی ساکھ پر سوالیہ نشان نہ ہوں، ایسی متاثر کن کہ ان کے کہنے پر بات مان لی جائے۔
دوسری جانب اور عوام کا بھی یہ حال ہے کہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے والے کو عمومی طور پر کمزور تصور کیا جاتا ہے۔گاڑی میں سفر کے دوران ابا جی کے ایک دوست نے کہا کہ ”چوٹی کے وکیل ہیں مگر کیسے بےضمیر ہیں، معلوم ہے کہ وزیر اعظم کے پاس ثبوت نہیں ہیں تو ضرور کروڑوں کی فیس لینی ہے، اخلاقی طور پر معذرت ہی کر لیں کہ جناب کیس میں جان نہیں ہے”۔ میں نے برجستہ کہا کہ جب مؤکل اخلاقی طور پر مستعفی نہیں ہو رہا تو وکیل کیوں اخلاقی طور پر کیس چھوڑ دے ؟ اور ویسے بھی یہ ہوسکتا ہے کہ وکیل نے اگر واضح کیا بھی ہو کہ جناب کیس کمزور ہے، مگر مؤکل چونکہ ڈٹ جانے کا فیصلہ کرچکا ہے، اس لیے وکیل کو بھی کہا گیا ہو کہ تم نے بس لڑنا ہے جتنا کیس کو لٹکا سکو، طول دینے کی کوشش کرو، باقی ہم سنبھالنے کی کوشش کریں گے۔
فیصلہ تو اب محفوظ ہوچکا، بس سنائے جانے کاانتظار ہے، وزیراعظم نااہلی سے بچ گئے تو یہی سمجھا جائےگا کہ معاملات سنبھال لیےگئے ہیں، یا ڈیل ہوگئی ہے، دوسری صورت میں اپوزیشن مٹھائیاں بانٹے گی۔
ن لیگ مخالف افراد نوازشریف کی نااہلی کو کرپشن کے خاتمے کی بنیاد بناتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد میں جتنا ضروری اور اہم قرار دے رہے ہیں، محبان نواز شریف نے وزیراعظم کے ڈٹ جانے کو، سازشوں کا قلع قمع کرنے اور ملکی ترقی و خوشحالی کے لیے اتنا ہی ناگزیر قرار دیا ہے۔ باقی رہا اخلاقیات کا معاملہ تو فی الحال روایات ہی ان پر مقدم دکھائی دے رہی ہیں۔
ان حالات میں گاہے مایوسی کے پردوں سے یہ سوالات بھی اٹھنے لگتے ہیں کہ
ہمارے ملک میں اخلاقی روایت کیسے جنم لے گی؟
کرپشن کا خاتمہ اور ملکی خزانہ لوٹنے والوں کا بےرحمانہ احتساب کیسے ہوگا؟
اخلاقی بنیادوں پر عہدہ اور سلطنت چھوڑ دینے کی روایت کب اور کیسے پنپ سکےگی؟

سیاسی جماعتوں سے تو کوئی امید نہیں، اس کے سوا اور کیا حل ہو سکتا ہے کہ ملک کی انٹیلی جنشیا اور مثبت تبدیلی کے خواہاں عوام نو مور کرپشن کے نعرے پر فوکس کر لیں کہ جناب اب کرپشن کے خاتمے کے لیے احتساب ناگزیر ہے، احتساب ہوگا اور سب کا ہوگا۔ سیاسی کارکن اپنی جماعتوں میں کرپٹ لیڈران پر اظہار ناپسندیدگی کریں، وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکن اگر حقیقی معنوں میں تبدیلی کے خواہاں ہیں تو پارٹی قیادت کو متنبہ کریں کہ انہیں کرپشن میں ڈوبے نذرگوندل قبول نہیں ہیں، علیم خان وضاحت کریں کہ ان کے نام کے ساتھ قبضہ مافیا کا ٹھپہ کیوں لگتا ہے؟ فردوس عاشق اعوان، بابر اعوان اور راجہ ریاض کی پارٹی میں شمولیت سے کون سی تبدیلی لانا مقصود ہے۔ صدر مملکت کے عہدے پر رہتے ہوئے مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے دنیا میں ملک کی بدنامی کا موجب بننے والے آصف زرداری کو کیونکر نہ ہمیشہ کے لیے جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جائے؟
یہی خود احتسابی کا رویہ باقی جماعتوں کے کارکنوں اور اہل دانش کو بھی اپنانا ہوگا۔
اہل قلم بھی دانش کو سیاسی جماعتوں کی زرخرید باندی نہ بنائیں۔
سب کے احتساب کی پٹیشن سپریم کورٹ میں دائر کرنے والے سراج الحق کو جہانگیر ترین کے خلاف بھی اسی طرح عدالت عظمی کے باہر باقاعدگی سے موجود ہونا ہوگا جس طرح وہ وزیراعظم کے خلاف موجود رہے۔
سماجی رویوں میں تبدیلی کی ایک مضبوط تحریک جو عوام کو اخلاقی اوصاف سے آراستہ کر دے، تبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ کوئی حکمران اپنے اوپر لگنے والے الزم پر خود ہی مستعفی ہوجائے اور کسی جے آئی ٹی کے ذریعے ذلیل ہو کر دنیا بھر میں ملک کی جگ ہنسائی کا موجب نہ بنے۔

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment