کالم

سازش کے پیچھے کون ؟

 
پی ٹی وی کے پرانے ڈرامے  میں ایک کردار اکثر باتوں کے جواب میں یہ کہا کرتا تھا کہ ” ہر بات کی تہہ  میں ایک بات ہوتی ہے اور وہی اصل بات ہوتی ہے ” یعنی پردے کے پیچھے کیا ہے ؟ اس کا پتہ تو یقینا پردہ اٹھنے کے بعد چلتا ہے مگر ہمار مجموعی مزاج پردہ اٹھنے سے پہلے سب دیکھ لینے کیلئے بے چین رہتا ہے ، اور اسی بے چینی سے  میڈیا انڈسٹری خوب فائدہ اٹھاتی ہے کہ  اس کا منجن خوب بکتا ہے ، بریکنگ نیوز ، ٹاک شوز  میں تجزئیے تبصے ہوں  یا اخبارات میں کالم ۔۔۔ بڑے سے بڑے دانشور کوئی بھی نقشہ پیش کر دیں  ،بات بن جاتی ہے ۔  پانامہ کیس  کو ہی دیکھ لیجئے ۔۔۔

طویل دورانیہ کی پانامہ  سیریز  کے اختتام کا آغاز ہو چکا اور اب آخری قسط بھی اپنے کلائمکس پر ہے۔فیصلہ محفوظ ہوچکا۔
 ۔۔۔ “وزیر اعظم نااہل ہونگے ۔۔نہیں ہونگے ۔۔۔  کچھ بھی ہوسکتا ہے “۔ 
ان تین باتوں میں سے کسی پر بھی ڈھیروں دلائل دئے جاسکتے ہیں ، اور دئے بھی جارہے ہیں ۔۔ تجزیہ کار جناب   سہیل وڑائچ نے کالم لکھا کہ گیم از اوور  ، اب اس کے بعد وہ  وزیر اعظم کو   سینے کے راز اگل کر تاریخ میں امر ہوجانے کے مشورے  دے رہے ہیں ۔   مگر لگتا ہے  کہ  بات اتنی بھی سادہ نہیں کہ وزیر اعظم سب  راز اگل دیں،پھانسی کے پھندے پر جھول جائیں اور تاریخ میں امر بھی رہیں ۔   
 معاملہ یہ ہے کہ پنجاب کے عوام نوازشریف کو پسند کرتے ہیں ،  پنجاب ن لیگ کا ہے ۔۔ جبکہ دوسری جانب  ، باقی صوبوں  کی نسبت سب سے زیادہ پنجاب کے عوام کے ہی فوج کو بھی پسند کرتے ہیں ۔۔۔ نوازشریف اور فوج کے آمنے سامنے آنے سے پنجاب کے عوام مخمصے  میں پڑ  جائیں گے ۔  انکے کیلئے کسی ایک کا انتخاب مشکل فیصلہ ہوگا  ۔۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام  فوج کی خاطر نوازشریف کی قربانی کو قبول کرلیں  گے مگر کڑوا گھونٹ پی کر ۔ ۔۔
 اُدھر نواز شریف کی مشکل یہ ہے کہ وہ ۔۔ جی تو چاہتا ہے  شہید ہوجاؤں ۔۔مگر سنا ہےجان سے مار دیتے ہیں ۔ ۔کے مصداق  تاریخ میں امر تو ہونا چاہتے ہیں مگر مرنا  نہیں چاہتے  ۔  لہذا وِن وِ ن پوزیشن  نکالنے میں ہی بچت ہے ۔ اور یہ  بچت  اسی صورت میں ہے کہ جب اسکرپٹ رائٹر کا معلوم  ہو کہ  وہ عمومی طور پر سمجھا جانے والا  لوکل اور اپنا ہی ہے یا یہ سب   کھیل  بین الاقوامی اکھاڑ بچھاڑ  کا  شاخسانہ ہے ۔
  ملکی منظر نامے کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو  واضح محسوس ہوتا ہے کہ امریکہ بہادر نے صاحب پر سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ۔ گزشتہ ایک عرصے   سے  امریکہ کے پاکستان سے تعلقات میں روایتی گرمجوشی  نہیں رہی تھی ۔ اس دوران خطے میں ہونے والی تبدیلیوں میں پاکستان اور روس  کے تعلقات  میں برف کے  پگھلنے  اور خاص طور پر چین کے ساتھ رومانس میں    چین کی آفر پر پاکستان کی والہانہ خودسپردگی  پر امریکی سرکار نے ناک بھوں تو چڑھائے ہوں گے ۔جس طرح پاکستان کو امریکہ سے مسئلہ کشمیر کے حل میں عملی حمایت  نہ کرنے پر جو شکایت بڑھ رہی  تھی اُسی طرح امریکہ کو افغانستان میں پاکستان کی جانب سے مسلسل  ُڈچ کروائے جانے پر   بھی (امریکیوں کے بقول ہی )شکوہ  بڑھتا جا رہا تھا ۔  دونوں کے درمیان وہ اسٹیج آگئی تھی جسکے بارے  میں شاعر سیانا بن کر سمجھاتا ہے  کہ “تعلق بوجھ  بن جائے  تو اس کا توڑنا اچھا “۔    امریکی ناراضگی  کے    اشارے  کی سب سے واضح جھلک قبلہ ٹرمپ  کے دورہ سعودی عرب میں   دکھائی دی جہاں شیڈول کے باجود وزیر اعظم نوازشریف  کو نہ صرف خطاب کا موقع نہ دیا گیا بلکہ پوری تقریب میں   کسی پرائے  کی طرح نکو بنائے رکھا گیا۔  اسی عرصے میں خود حکومت کی جانب سے بھی روزانہ  کی بنیاد پر سی پیک کی مالا جپنے کی رٹ میں واضح کمی ہونے لگی تھی  جس سے بھی یہ  لگنے لگا  تھا کہ سم تھنگ از  ڈوینگ رونگ ۔    سعودی عرب کے یمن اور قطر کے ساتھ تنازعے میں  واضح اور دو ٹوک ساتھ نہ دینے پر  بھی سعودی شاہی خاندان بھی نوازشریف سے ناراض  ہونے لگا تھا ۔  
بہرحال اگر یہ  خطے میں ہونے والی تبدیلیوں  کے سلسلے میں بچھائی جانے والی بساط کے عمل  کا حصہ ہے تو معاملہ زیادہ تشویشناک ہے ۔  کہ اس سارے عمل کے نتیجے میں ملک  عدم استحکام اور  سیاسی ابتری کی جانب  ہی بڑھے گا ۔ 
 اس وقت عالمی منظر نامے میں نوازشریف کی حمایت مضبوط نہیں رہی ، پشت پر کھڑے بڑے پہاڑ سرک چکے ، امریکہ بہادر ناراض  اور سعودی شاہی خاندان  نالاں ہے ۔  جبکہ بھارت روایتی مکاری اور افغانستان    گھٹیا عیاری کا مظاہرہ ہی  کرسکتا ہے ۔ لے دے  کے اکیلا چین اور ذرا فاصلے پر کھڑا ترکی ہی نواز  شریف کا سہارا ہیں ۔ ان میں بھی اکیلے ترک صدر ارگان ہی نوازشریف کے ذاتی دوست  ہوسکتے ہیں   جبکہ  چین  کے تعلقات تو ریاست   کی بنیاد پر ہی ہیں  ۔ ۔۔  
پانامہ کیس اگر  سازش نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ نہیں ہے ۔۔تو بھی  نوازشریف کی عالمی مقبولیت میں کمی کی اس ساری صورتحال کا  اندرونی طور پر بھر پور فائدہ اٹھانے کی پوری کوشش ضرور کی جارہی ہے ،  اور غالبا ً اسی کوشش کو وزیر اعظم  “سازش” قرار دے رہے ہیں ، 
  اب اگر یہ سازش ہی ہے جس کا تعین ابھی باقی ہے تو پھر اپوزیشن بیچاری  کو  خبر تو ہوگی  کہ ملکی تاریخ میں جمہوری حکومتوں کے خلاف عدالتی اور عوامی تحریکوں  میں ان کا خون پسینہ تو ہمیشہ بہا مگر مطلوبہ اُجرت  کبھی  نہ مل سکی 

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment