کالم

حجاب کا انتخاب

“صرف اچھی نیت کا حامل ہونا ہی کافی نہیں ہے ، صاحب بصیرت ہونا  بھی بڑا  کام ہے ۔
حجاب لازمی قرار  دینے کا فیصلہ موثر  ہوجاتا اگر اضافی نمبر  دینے کی بات نہ ہوتی ۔
مگر یہ تو واضح ہوگیا کہ لبرلز  اسلامی اقدار  کے معاملے میں کسی بھی لُوز بال پر خوب دھما چوکڑی  مچانے کیلئے ہر وقت بے چین رہتے ہیں ۔
اور  میڈیا اُن کا فرنٹ مین اتحادی ۔۔۔”

اپنی وال پر یہ اسٹیٹس دیا تو فوراً ہی  “ہم سب” کے ایڈیٹر  نے تبصرہ فرمایا کہ  “دلچسپ، یعنی اعتراض بولر کی لوز بال پر نہیں ہے بلکہ مجرم بیٹسمین ہے  جو اس لوز بال پر چھکا مار دیتا ہے “۔ 
ہم نے وضاحت کی کہ “جناب  پہلے باولر کی لوز بال پر ہی برا منایاگیا ہے بات ہی وہاں سے شرو ع کی ہے ۔بے بصیرتی  کا طعنہ بھی مارا ہے اپنے باولر کو “۔
مگر  اس طرح کی سب وضاحتیں بے سود ۔۔۔۔الیکٹرانک ، پرنٹ اور سوشل میڈیا  پر ایک طوفان تھا جو برپا کر دیا گیا ۔
اس ایک معاملے میں  بہت سے طبقے  ایکسپوز ہوئے ۔۔۔۔
معلوم ہوا کہ حجاب سے فوری تکلیف کس کس کو ہوتی ہے ۔۔۔ اور کس قدر زور سے ہوتی ہے ۔۔۔  کسی کے ماتھے پر شکن آئی تو کسی کے  پیٹ میں مروڑ اٹھے ۔۔۔اور کوئی ہیضے میں مبتلا ہوکر  الٹیاں کرنے لگا ۔۔
بلاول بھٹو اور آصفہ کا رد عمل فوری تھا ۔۔۔۔  انہوں نے حجاب  کے فیصلے کی پرزور مذمت کی ۔۔(حالانکہ ان کی والدہ بی بی بے نظیر  جب سے وزیر اعظم بنی اس وقت سے آخر تک دوپٹے سے  سر ڈھانپے ہی دکھائی دیں )۔
دانشوروں  نے  اوٹ پٹانگ سوالات کھڑے کرکے مذاق اڑایا ۔۔۔ کونسا حجاب ؟ دوپٹہ یا برقعہ ؟ ٹوپی والا یا کالا نیلا ؟ ان دانشوروں کے سوالات دیکھ کر بنی اسرائیل  کے لوگ یاد آگئے ۔۔حضرت موسیٰ نے جب بچھڑے کو ذبح کرنے کا کہا تھا تو انہوں نے بھی اسی طرح کے سوالات کئے تھے ۔۔کونسا بچھڑا ہو ، موٹا یا پتلا کس عمر کا اور کس رنگ کا ؟ 
حالانکہ سوال کرنے والا بخوبی بات سمجھ رہا ہو تا ہے مگر اپنی دانشوری اور پوزیشن سے مجبور ہو کر سولات کھڑے کرتا ہے ۔
یہ ایسے ہی ہے کہ مہمان شربت پینے کی فرمائش کرے اور آپ سوالات شروع کردیں جام شیریں ،روح افزا یا صندل ؟  گلاس کیسا ہو؟ شیشے کا یا کوئی اور ؟ پھولدار ہو  یا سادہ ؟
حضور بات سادہ سی ہے ۔۔۔ اسلام حیا کا فروغ چاہتا ہے ۔۔ اور   اسلام مخالف بے حیائی  پسند کرتے ہیں ۔
حجاب سے  پاکیزہ معاشرہ   نمو پاتا ہے اور بے حجابی  بے حیائی کی بنیاد رکھتی ہے ۔
کائنات کا رب جس اسلامی معاشرے کی تشکیل چاہتا ہے   وہاں  حیا اور غیرت    کے مظاہر عام  ہیں اور  اسکے مقابل شیطان معاشروں میں بے حیائی کے فروغ  کیلئے نت نئے انداز اپناتا  اور جتن کرتا رہتا ہے ۔
اب سیدھا سا سوال بلاول ، آصفہ  اور دیگر دانشوروں سے یہ بنتا ہے  کہ جناب   آپ معاشرے میں بے حیائی   کے خواہاں ہیں یا حیا کو بھی کسی دائرے میں  پسند کر سکتے ہیں ؟ واضح اور دو ٹوک اعلان  کریں ۔۔اپنی پوزیشن واضح کریں۔  یہ پولے پولے جواز اور حیلے بہانے یہ کیسی منافقت ہے ؟  مولوی بات کرے تو آپ اس کی واٹ لگا دیتے ہیں ۔۔ اب تو  ایچی سن کے فارغ التحصیل  کلین شیو وزیر موصوف نے بات کی۔  آپ نے اس کی بھی کِٹ  لگا دی ۔  
آپکا  استدلال یہ تھا کہ شرعی حدود یا قوانین پر تنقید نہیں کی وزیر کے بیان پر کی ہے ۔ ۔۔بات  مگر اتنی سادہ بھی نہیں ہے ۔۔آپ کے رویے  لب و لہجہ اور الفاظ سب کچھ عیاں کر دیتا ہے ۔
چلیں مولوی اور  بابو منسٹر کو رہنے دیں ۔ہم   آپ پر چھوڑتے ہیں، آپ خود طریقہ کار  وضع کریں اور رہنمائی کریں  ۔
ترغیبی 5 نمبر بھی نہ دیں اور ضیائی  ڈنڈا بھی نہ چلائیں ۔
ٹاسک یہ ہے کہ آپ کے  رب اور آپ کے رسول ۔۔جن پر آپ   ایمان لائے ہیں ۔۔ انہیں حیا پسند ہے اور بے پردگی انہیں اچھی نہیں لگتی ۔۔۔۔
اب آپ کیسا نظام اور لائحہ عمل تشکیل دیں گے کہ جس  سے اللہ اور اسکے پیارے رسول کے احکامات اور پسند کا احترام کیا جاسکے ۔۔۔ان کےاحکامات پر عمل کیا جاسکے اور انکے سامنے سرخرو ہوا جاسکے ۔ ۔۔!

وزیر کے بیان کو چھوڑیں ۔۔صاف بتائیے حجاب آپ کا انتخاب ہے کہ نہیں ۔۔۔؟
آمناو اطعنا کے مصداق سر تسلیم خم کریں  یا پھر بغاوت کا اعلان کرکے اپنا کیمپ تبدیل کریں ۔
فیصلہ ،اختیار اور انتخاب ۔۔سب آپ کے پاس ہے ۔

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment