کالم

متبادل بیانیہ ۔۔۔اور اصل دوا

وزیر اعظم نے متبادل بیانیہ  کی بات کی تو بحث چل پڑی ۔۔ ہمارے ایک دوست اینکر نے فیس بک پر وزیر اعظم کی تقریر کو سراہتے ہوتے زور دیا کہ چونکہ دہشتگر دی میں ملوث عناصر دینی توجہیات پیش کرتے ہیں لہذا متبادل بیانہ لبرل ازم پر مبنی ہونا چاہیے ۔۔۔۔

ہم نے عرض کیا کہ جناب اس بحث کو ایک مثال سے بخوبی سمجھا جاسکتا ہے
ایلو پیتھک ادویہ سازی پوری دنیا میں ایک مستند مقام رکھتی ہے(یہ صرف مثال کے طور پر ہے بندہ ہومیو یا حکمت کا منکر نہیں)  
اب اگر کوئی جعل ساز جعلی دوائیاں بنا کر فروخت کرنے لگے اور حکومت  جعل ساز کو ایکسپوز کرنے ، کڑی سزا دینے کے
بجائے پوری ایلو پیتھک انڈسٹری سے ہی منہ پھیر لے ۔۔۔۔ تو یقیناً آپ کویہ بڑی ہی نامعقول حرکت لگے گی ۔۔۔
جی ہاں یہاں بھی ایسا ہی معاملہ ہے ۔۔۔اسلام ہمارا دین ہے. ہمارا ایمان ہے کہ دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے ۔۔
قرآن اور محسن انسانیت کی تعلیمات میں اگر کوئی ظالم ملاوٹ کرے اور اپنا منجن بیچنے کی کوشش کرے تو ہونا تو یہ چاہیے کہ ایسے ظالم اور فاسق کو مکھن میں بال کی طرح نکال باہر کر دیا جائے اور پوری قوت سے اسکی بیخ کنی کی جائے. اسکے ملاوٹی فارمولے کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے عوام الناس کو اس سے ہوشیار اور خبردار کیا جائے ۔
مگر المیہ ہے کہ ہماری حکومت اور دانشور دین کے حوالے سے ہی معذرت خواہانہ لہجہ اپنا لیتے ہیں ۔اور لبرلز ان مواقعوں پر فوری طور دین سے فرار کیلئے اچهل کود شروع کر دیتے ہیں
حالانکہ یہی تاریخ کا وہ موقع ہوتا ہے جب دین کی غلط تعبیر کرنے والوں کو پوری قوت سے بے نقاب کرکے اصل دین کی حقانیت کو پوری شدو مد اور تکرار سے آشکار کر دیا جائے
اصل دوا مارکیٹ میں جتنی وافر ، خالص اور باآسانی دستیاب ہوگی ، جعلی منجن بیچنے والوں کیلئے اتنی ہی دشواریاں ہونگی
.

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment