کالم

یہ کلٹ ہے ۔ ۔ ۔

“طیب اردوان کا کہنا تھا کہ یہ کلٹ ہے ،  ۔۔۔۔اور میں اب یہ  سوچ رہا ہوں کہ اردو میں کلٹ کا مطلب کیا ہوسکتا ہے” 
۔۔۔ مسلک۔۔۔؟ایک کونے سے آواز ابھری ، 

“نہیں نہیں مسلک نہیں ۔۔۔ دیکھیں کلٹ ایک ایسا نیٹ ورک ہے جو بظاہر اوپن   سرگرمیاں کرتا ہے مگر اسکے  بہت سے معاملات  خفیہ  ہوتے ہیں   یہ انتہائی منظم  ہوتا ہے ،اور ایک فرد واحد کی کمانڈ میں ہوتا ہے ، اس میں شورائیت نہیں  ہوتی  ۔ اس تنظیم کے   بہت سےحصے   ایک دوسرے سے بے خبر  ہوتے ہیں  ، صرف اپنے کام مشن سے واقف  اور اسی پر عمل پیرا ۔  ایک انڈر ورلڈ مافیا کی سی طرز پر  ۔۔۔۔  کسی بھی حکومت اور نظام کے اندر اپنا ایک مکمل سسٹم ۔ ۔۔ جس کے اندر کسی بھی حکومت  کو الٹنے اور متبادل  نظام پیش کرنے کی صلاحیت ہو ۔

اس کی مثال آپ پاکستان میں  کسی  حد تک  ایم  کیو ایم  جیسی تنظیم سے سمجھ سکتے ہیں ، جو عوام میں بھی موجود ہو ،خدمت  کے کام بھی ہوں  سرکاری محکموں دفاتر شعبوں میں ہر جگہ اس سے وابستہ افراد ہوں  جو ایک کال پر شہر منجمند  کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں ۔ اور بیرون ملک خفیہ رابطے اور دہشت گرد کاروائیاں بھی ہوں ۔۔۔  تو اگر ایسا کلٹ موجود ہو تو وہ یقیناً ایک ناسور ہے ۔ جس  سے معاشرے اور اپنے سسٹم کو محفوظ رکھنے کیلئے  اس کا جڑ سے خاتمہ ناگزیر ہوجاتا ہے ۔ 

 ترکی میں  اس وقت حکومت  اپوزیشن  سمیت تمام سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہے کہ گولن مومنٹ ایک کلٹ ہے ۔ لہذا اس نیٹ ورک کا مکمل خاتمہ جمہوریت اور   ترکی کے مفاد میں ہے “۔
الخدمت فاونڈیشن کے مرکزی صدر جناب عبدالشکور   نے  یہ کہہ کر قدرے توقف کیا تو گویا بات  سمجھ میں آنے لگی ۔  ترکی کے دورے سے  واپسی پر  جناب احسان اللہ وقاص نے اپنی رہائش گاہ پر ان کے اعزاز میں پرتکلف عشائیہ کا اہتمام  کیا تھا ، محفل میں جناب  معروف  کالم نگار سجاد میر ، روف طاہر ، حفیظ اللہ نیازی ، حافظ شفیق  الرحمان   سمیت جماعت اسلامی کے اکابرین  خاص کر عالمی دنیا پر گہری نظر رکھنے والے ڈائریکٹر فارن افیئر عبدالغفار عزیز بھی کرسی صدارت پر  موجود تھے ۔ ۔ عبدالشکور صاحب کے ہمراہ  بچوں کے ادب سے شہرت پانے والے اور اب شخصیت سازی کی ٹریننگ میں نام کمانے والے جناب اختر عباس  بھی ترکی کے دورے پر تھے ۔ وہاں انہوں نے دنیا بھر کی مسلم این جی اوز کے مشرکہ پلیٹ فارم    کی سرگرمیوں میں شرکت کی ۔اور سب سے اہم ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات بھی ہوئی 

جس کی تفصیلات بتاتے ہوئے عبدالشکور  صاحب  کا کہنا تھا کہ اتنی  بڑی بغاوت کو کچلنے اور اس کے بعد  عوامی  حمایت   کے شاندار مظاہروں نے  جو سما باندھ رکھا ہے اس سے کسی بھی لیڈر   کا  غرور وتکبر   میں مبتلا ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں  ، مگر  عوام کی اس قدر محبتیں سمیٹنے اور ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مکمل حمایت کے باوجود  طیب اردوان کی شخصیت   سے تکبر کوسوں دور تھا ، اردوان  کی لہجے کی مضبوطی رعونت کے بجائے انکے اعتماد  کی گواہی دے رہی تھی ۔ ان کے الفاظ بڑھک کے بجائےقدرے  احتیاط کا دامن تھامے ہوئے تھے ، جن میں سفارتکاری کے سارے  آداب  اور وقتی تقاضے ملحوظ خاطر رکھے  ہوں ۔  ان کے تفصیلی خطاب میں یقین جھلکتا تھا کہ انہوں نے جو پالیسی اپنائی ہے وہ تمام تر اندیشوں کے باوجود   درست اور فیصلہ کن ہے ۔ 

عبدالشکور صاحب کہہ رہے تھے کہ طیب اردوان کا ویژن بہت بلند ہے وہ بہت دور تلک دیکھنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں ، اور اس وقت  طیب اردوان جہاں ترکی کی عظمت رفتہ اور خلافت عثمانیہ  کے حسین ادوار کی بحالی کے خوابوں کو عملی تعبیر دینے  کی جدوجہد  میں مصروف ہیں وہیں  ان کے  پیش نظر  دنیا سے واحد سپر پاور کی اجارہ داری کا خاتمہ بھی ہے ، وہ  سپر پاور کی قوت کو تقسیم کرکے   دنیا میں طاقت  کا توازن پیدا کرنے کی تدابیر   کر رہے ہیں ۔۔۔ 

عبدالشکور صاحب نے گفتگو ختم کی تو محفل میں موجود افراد کے لبوں پر طیب اردوان  کی سلامتی اور ترکی کے استحکام کی دعائیں تھیں ۔   

مگر   میں  ماضی کے جھرونکوں سے ہوتا ہوا مستقبل کے منظر نامے کے تار بنتا ہوا  گہرے خیال میں ڈوب چکا تھا ۔۔ ۔۔میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے عمیر ادریس سے سرگوشی کی کہ
 جناب اردوان سپر پاور کو لگام دینے کیلئے جس نئے بلاک کی تعمیر میں کوشاں ہیں    اسکی طاقت کا  مرکز روس ہے ۔  کیا یہ  زمانے کا ستم  نہیں کہ   جس روس کی چیرہ دستیوں سے نجات  اور دنیا میں طاقت کے توازن کیلئے ہم نے  دہائیوں تک امریکہ کا ساتھ دیا  ۔۔آج اسی امریکہ کی منافقتوں اور ظلم وستم  سے  تنگ آکر   ایک بار پھر  اسی  روس  کو توانائی فراہم کرنے جا رہے  ہیں ۔

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment