کالم

میڈیا اور پی ٹی آئی جلسہ



نبیل آپ لبرٹی جائیں ۔۔۔وہاں لڑکیوں کے ایک گروپ کے ساتھ آپ نے  ایز لائیو  کرنا ہے ۔۔  لڑکیاں ذرا منچلی سی ہوں اور وہ بتائیں کہ ہم پی ٹی آئی  کے جلسے  میں جانے کیلئے  خوب پرجوش ہیں اور تیاریاں کر رہیں ہیں ، لبرٹی میں پارٹی پرچم کے رنگ کے دوپٹے رنگوانے آئی ہیں ۔۔۔۔
وہ تو ٹھیک ہے سر مگر میں لڑکیوں کا گروپ کہاں ڈھونڈتا رہوں گا ؟
ہاں چلو ایسا کرو آفس میں یہ جو انٹرن شپ پر لڑکیاں ہیں ان کو ساتھ لے جاو ۔ان سے ایکٹنگ کروالینا ۔۔۔۔۔اوکے

شاکر تم  ایسا کرو کہ کسی  بڑی سی کوٹھی میں جاو   اور   وہاں اسٹیج کرو کہ سب  فیملی ممبر ز ٹی وی  لاونج میں ہیں اور  جلسے میں جانے کی  تیاریاں کر رہے ہیں  خوب  باتیں ہو رہیں کھانا کیا پکانا ہے؟ اکٹھے کیسے جانا ہے ؟  کپڑے کیا کیا پہننے ہیں مرد و خواتین سب پارٹی پرچموں جیسے کپڑے پہنیں گے وغیرہ وغیرہ مگر اصل فوکس لڑکیوں  پر رکھنا ہے کہ وہ کتنا پرجوش ہیں ۔
ارم تم کسی سیلون میں جاو وہاں جو خواتین فشل کرو ارہی ہوں ان سے کہلوا دو کہ وہ جلسے میں جانے کیلئے  تیار ہو رہی ہیں ۔۔

ابے لیاقت تم کسی خواجہ سرا وں کے اڈے چلے جاو  اور اچھا سے شوٹ کرو کہ خواجہ سرا  پی  ٹی آئی کے جلسے میں  ناچنے کیلئے کیا نئے ڈانس پریکٹس کر رہے ہیں  ؟ 
یہ جناب اس وقت تمام چینلز کے نیوز رومز کا منظر ہے جہاں رپورٹرز  کو نت نئے آئیڈیاز کے ساتھ  ٹاسک دئے جا رہے ہیں ۔۔۔  پی ٹی آئی کا جلسہ ہو تو ٹی وی والوں کو کیا کیا چاہیے ماڈرن آنٹیاں ، منچلی لڑکیاں ، میک اپ کپڑے رنگو ں کی بہار ، میوزک کی دھن اور عمران  خان دے جلسے وچ نچن نوں دل کرد اہوئے ۔ ۔۔۔
 جب  میڈیاا اس قدر برانگیختہ  کر دے گا تو اسلام آباد میں خواتین کے ساتھ بدتمیزی والے واقعات  تو رونما ہونگے ہی ۔ 

اس جلسے سے پہلے تین بڑے چینلز پر سارا دن چلنے والی ہیڈ لائنز  ذرا ملاحظہ فرمائیں عمران کی دیوانیوں نے سجنے سنورنے  کیلئے سیلونوں کا رخ کر لیا  ۔ ۔ ۔  فلاں جگہ کا خواجہ سرا بھی جلسے میں جانے کیلئے بے تاب ۔۔۔۔ اور اب ڈی جے کی جگہ ڈی  جے فلاں  دھنیں بکھیر کر کارکنوں کو گرمائیں گے ۔۔۔۔ یہ وہ ہیڈ لاینیں تھیں جو سارا دن سکرینوں کی زینت بنی رہیں ۔ اب لاہور میں جلسے کیلئے بھی میڈیا کے پا س بیچنے کو یہی سامان ہے ، 

جو رپورٹ بھی بنتی ہے  لڑکی سے شروع ہو کر لڑکی پر ہی ختم ہو تی ہے   انسرشنز بھی لڑکیوں کی اور واکس پاپس بھی لڑکیوں کے ہی ۔  ۔۔ 

 معاشرے کو سیاسی شعور  دینے کا دعویدار میڈیا  ملک کے بڑے سیاسی بحرانوں پر بھی عورت  اور میوزک سے آگے نہیں بڑھ پا رہا ۔   


دراصل میڈیا پی ٹی آئی جلسے کو ایک بڑے انٹرٹیمنٹ ایونٹ کے طور پر لیتا ہے ۔ اور اس سے اپنی ریٹنگ بڑھاتا ہے ۔   خود پی ٹی قیادت بھی اسے اپنے کارکنان کی تفریح کے طور پر ڈیزائن کرتی ہے جسے میڈیا عوام الناس کی تفریح بنا دیتا ہے ۔۔۔  اس طرح پی ٹی آئی   کا جلسہ ۔۔۔۔
  خواتین +ڈی جے = پی ٹی آئی جلسہ   
بن کر رہ گیا ہے ۔  جس کی وجہ سے اب اس طرح سے پوسٹس مقبول ہونے لگی ہیں کہ  ”  وزیر اعظم کے گھر  کے سامنے دھرنے کے اعلان پر رائے ونڈ کے دیہاتوں کے پونڈوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ” ۔۔۔۔۔  
یہ صورتحال تحریک انصاف کے لئے  بھی اور ملکی  سیاسی مزاج کیلئے بھی تشویشناک ہے ۔  جلسے ہلڑ بازی اور بے ہودگی کی نذر نہیں ہونے چاہیے ۔ 
میڈیا کا ایک علاج تو یہ ہے کہ جلسے میں موجود پی ٹی آئی کارکنان بینر اور پلے کارڈز لہرائیں جن پر لکھا ہو کہ میڈیا والوں ایک نظر ہم پر  بھی ڈال دو جلسے میں  بندے بھی موجود ہیں ۔۔۔۔ شاید ان بینرز کی وجہ سے مردوں کو بھی کوئی شاٹ آجائے ۔ ورنہ تو کیمرے انتہائی باریکی سے چن چن کے صرف خواتین کے ہی شاٹس بناتے رہتے ہیں ۔
    ویسے ایاک نعبد و ایاک نستعین کا ورد کرنے والے عمران خان   اور ان کے سنجیدہ کارکنان  بھی غور کریں کہ   کیا انکا کل اثاثہ یہی متوالی  لڑکیاں اور میو زک کی تان ہے ؟ وہ اپنے ورکرز کی کیا اخلاقی تربیت کر رہے ہیں؟  ۔۔

۔۔   باقی میڈیا کو کیا کہے کوئی۔۔۔ اس کی کونسی  کوئی کل سیدھی ہے ۔

 

About the author

ایڈمن

2 Comments

Click here to post a comment