کالم

سیکولرز کی شکست کا آغاز


آفس سے گھر آ کر چئیر پر  بیٹھتے ہی موبائل پر واٹس ایپ پیغامات دیکھنے لگا ۔ ایک میسیج  میں لنک تھا اور لکھا تھا کہ سیکولرازم پر بہترین چوٹ ہے ۔۔۔موضوع کی پسندیدگی کے باعث انتہائی تھکاوٹ   اور مصروفیت  کے باوجود لنک اوپن کر دیا ۔۔۔ پہلے حیرت تو یہ ہوئی کہ ارے واہ ان صاحب کا کالم۔۔ سیکولرازم کے خلاف اور وہ  بھی “ہم سب” پر ۔۔۔  ؟

واہ ۔  جونہی پڑھنا شروع کیا تو ایک عجیب سی راحت اور اطمینان کی کیفیت طاری ہونی لگی ۔۔۔۔ کمرے سے نکلا اور پڑھتا پڑھتا ڈرائنگ روم جا بیٹھا کہ خالی کمرے میں زیادہ اطمینان سے  پڑھا جائے ۔۔۔۔ ویسے تواس کا عنوان” رائٹ ونگ کے نوجوان لکھاریوں کو گیارہ مشورے ” تھا  مگر ان مشوروں میں سیکولر  حضرات کے ذہن کی جس خوبصورتی سے عکاسی کی گئی دل عش عش کر اٹھا ۔ اور  ان مشوروں میں  اسلامسٹس کو جس انداز سے سمجھایا سکھایا جا رہا تھا  کما ل  تھا ۔ گویا ایک جنگ اور کشمکش کے اسلوب اور طور طریقے سب گھول کر پلائے جارہے ہوں  ۔۔۔

تحریر   کے آغاز سے ہی  ایک جھماکا سا ہوا اور ذہن کے دریچوں میں ایک منظر  رونما ہو گیا ۔۔۔

خوبصورت سبزہ زار میں کچھ لوگ کرسیوں پر مودب انداز سے ہمہ تن گوش ہیں اور ان کے درمیان ایک نشست پر سفید اجلے کپڑوں میں ملبوس صدی کے رجل رشید امام  العصر سید مودودی علیہ رحمہ   تحریک اسلامی کے کارکنا ن کو آنے والے فکری تہذیبی خطرات سے خبرادار کرتے ہوئے سوشل ازم کے خلاف صف آرا ہونے کیلئے جدوجہد پر آمادہ وتیار بھی کر رہے تھے اور   علمی و فکری طور پر سوشل ازم  کے انتہائی مہذب استدلال کے ساتھ بخیے بھی ادھیڑ رہے تھے   ۔۔۔۔۔   

 ان مشوروں میں بھی اسلوب کی  شائستگی ،لہجے کا نکھار  اور فکر کی  ویسی ہی پختگی  نظر آرہی تھی ۔۔۔۔۔  ویسا ہی  سبق جیسا سوشل ازم  کو شکست دینے کیلئے دیا گیا ویسے  ہی  اوصاف سیکولر ازم کے خلاف نبرد آزما ہو نے  والوں کو بیان کئے جارہے تھے ۔۔۔۔۔ 
مجھے یوں لگا گویا صاحب تحریر خود اُس مجلس کا جیسے برسوں سامع رہا  ہو  ۔۔۔۔ جوں جوں میں پڑھتا گیا میرا احساس پختہ ہوتا گیا کہ مصنف سیدی کی اُسی عصری مجلس میں اُن کے پیچھے بیٹھا انہماک سے گفتگو سن بھی رہا ہے اور تیزی سے نوٹس بھی لیتا جا رہا ہے ۔۔۔ 
مشورے مکمل ہوئے گویا سیکولر اذہان کا پوسٹ مارٹم مکمل ہو گیا ہو ۔ ۔۔ماسکو میں لینن کے مجسمے کے گرتے منظر کی طرح  مستقبل میں سیکولرازم کا بت پاش پاش ہوتے  دکھائی دینے لگا ۔۔ 
جناب وجاہت صاحب کا شکریہ ادا کرنے کو  دل چاہا کہ انہوں نے رائٹ ونگ کے سوئے شیروں کو جگا دیا ۔۔جس  کے بارے اقبال نے  قدسیوں سے سنا تھا کہ وہ شیر پھر ہوشیار ہوگا ۔۔۔۔
کالم کے بعد جب سیکولر حضرات کے تبصرے پڑھے تو یہ لگا جیسے سب کے سینوں پر مونگ تل گیا ہو ۔۔۔ گو داعیانہ اوصاف تو یہی ہیں کہ نظریاتی مخالف  کی ہدایت کیلئے فکرمند بھی ہوں اور دعا بھی کریں مگر جو میں نہ مانوں اور کوا سفید ہے والی گردان  ہی الاپنے والے ہوں انکی فکری شکست پر سرشاری تو ہوتی ہی ہے نا ۔۔۔۔ 
تو حضرات جب اسی سرشاری  کی کیفیت میں میں نے انگڑائی لی تو مجھے انعام را نا کے وہ جملے یاد آگئے جو انہوں  نے ہمارے استاد جناب ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کے بارے میں شاید اسی طرح کی کیفیت کے دوران لکھے  کہ  عاصم بھائی بہت ہی کیوٹ ہیں، نیڈو بے بی کی طرح۔ قسم سے کئی بار دل کیا کہ دونوں گالیں پکڑ کر شونا میرا شونا کروں “۔ 
یہ خیال آتے ہی میری تو ہنسی چھوٹ  گئی اور میں نے  بھی اپنے خیالوں میں ہی قیمتی مشورے دینےوا لے برادر جناب عامر ہاشم خاکوانی کو  جھپی ڈالتے ہوئے شونا شونا کر دیا ۔۔۔۔
تو جناب آپ بھی ذرا عامر خاکوانی صاحب کے مشورے  پڑھیے ، صف بستہ ہوں ، اور سیکولرز کے کمنٹس پڑھ کر لطف اٹھائیے ۔
http://humsub.com.pk/12623/aamir-hashim-khakwani-11/

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment