کالم

عوامی بیانیہ


بظاہر تو سادہ سی بات  ہے کہ۔۔۔۔۔ ممتاز قادری نے   قانون ہاتھ میں  لیتے ہوئے سلمان تاثیر  کا قتل کیا ،جس پر قانون نے اپنا فیصلہ سنادیا  اور حکومت نے  اس فیصلے کی توثیق کرتے ہوئے ریاست میں  قانون کی بالادستی  کا اقدام کیا ۔ ۔۔ مگر یہ بات  محض اتنی سادہ بھی نہیں ہے ۔۔۔۔

گو کہ یہ دلیل نہیں عشق کا معاملہ ہے ۔۔۔ مگر ممتاز قادری  کا  اقدام جہاں سراسر عشق و مستی  پر مبنی تھا وہیں اسے دلیل بھی میسر  تھی ۔  عدالتی کاروائی کےذریعے بھی اسے  پھانسی سے بچایا جاسکتا تھا ۔  یہ تبھی ممکن تھا کہ اگر حکومت کے ہاں  ممتاز قادری کو چھوٹ دینے کی  ذرا بھی  خواہش موجود ہوتی ۔  موجودہ حکمرانوں کے پاس دو ہی راستے تھے  ۔۔۔عوامی جذبات  کا احترام کرتے  یا غیر ملکی  آقاوں کو   راضی رکھتے ۔۔۔اور حکمرانوں  نے دوسرا راستہ اختیار کرتے ہوئے  اپنی راہ کھوٹی کر لی   ۔ ۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو آزاد عدلیہ کا فیصلہ ہے وہ کسی بھول میں ہیں ۔ یہ فیصلہ  حکومت کی رضا، منشا اور  اسکے اعتماد کے  عین مطابق ہی کیا گیا ۔  جناب صدر کی کیا مجال کہ وزیر اعظم کی منشا کے خلاف کوئی فیصلہ دیں ۔ صدر اور وزیر اعظم نے   پھانسی روکنے کی اپیل مسترد کرتے ہوئے   وائٹ ہاوس کو اپنا قبلہ تسلیم کیا ہے ،خاک مدینہ و نجف  کا سرمہ انہیں بھا نہ سکا اور دانش فرنگ کے جلوے  نے  ان کی آنکھیں خیرہ کر دیں ۔
ممتاز قادری کے جنازے  نے تاریخ رقم کر دی ہے ۔ لیاقت باغ اور اس کے اطرف کی سڑکوں پر کئی کئی کلومیٹرز تک  پھیلے لاکھوں افراد نے گواہی دے دی کہ ممتاز قادری شہید ہے اور  وہ اس سے عقیدت رکھتے ہیں ۔
 لاکھوں لوگو ں کا یہ اجتماع جہاں ممتاز قادری سے عقیدت  کا اظہار تھا وہی حکمرانوں کے  اقدام کے خلاف ریفرنڈم بھی تھا جنازے کی شان و شوکت اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے خوفزدہ حکمرانوں نے میڈیا کو ایسا ڈنڈا دیا کہ اسکی سٹی بھی گم ہو گئی ۔ آزاد عدلیہ کے بعد آزاد میڈیا کا جنازہ بھی نکل گیا ۔ ۔۔۔ 
سلمان تاثیر کی یاد میں پندرہ خواتین اور مردوں کے لبرٹی چوک میں شمعیں جلانے پر  لائیو کوریج کرنے والا میڈیا  ممتاز قادری کے لاکھوں کے مجمعے کو یہ کہہ کر  بلیک آوٹ کر نے لگا کہ اس  سے قوم میں اشتعال پیدا ہو  گا ۔  جھوٹ ڈھٹائی کے ساتھ  چنگھاڑتا رہا جبکہ  منافقت پوری عیاری کے ساتھ ناچتی رہی ۔۔۔اور غیر جانبداری گئی تیل لینے۔۔۔ ایسے میں ہوا یہ کہ عوام میں میڈیا  کا بت ٹوٹ گیا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی دینا محض قتل کے بدلہ قتل نہیں ہے یہ وزیر اعظم پاکستان جناب میاں محمد نوازشریف کے  اعلان کردہ لبرل پاکستان کی جانب تیزی سے بڑھتا ہوا یک  انتہائی اقدام ہے ۔۔یہ اقدام نصاب میں تبدیلی ، بے ضرر تبلیغی جماعت  کی تعلیمی اداروں میں پابندی ، تیزی سے اسلام پسند نوجوانوں کے  لاپتہ ہونے والے واقعات  ، تحفظ خواتین بل  اور  وزیر اعظم ہاوس میں شرمین عبید کی پرموشن جیسے اقدامات  کا تسلسل ہے ۔  ملک میں  لبرل ازم کو پروان چڑھانے اور سیکیولر اسٹیٹ بنانے  کیلئے جو اقداما ت بھٹو ، مشرف اور زرداری نہ کرسکے ،اسلام پسند دکھائی دینے والے نوازشریف تیزی سے انجام دے رہے ہیں ۔   

وزیر اعظم عدلیہ ،میڈیا ،  ایجنسیوں اور این جی اوز  کے ذریعے سیکولر بیانیہ ترتیب دینے میں مصروف ہیں ، مگر  ممتاز قادری کے جنازے نے  عوامی بیانہ  پیش کر دیا ہے  کہ  قوم کا سواد اعظم  غیر ملکی آقاوں کی خوشنودی کیلئے ناموس رسالت ایکٹ میں تبدیلی کو برداشت نہیں کرے گا ۔

About the author

ایڈمن

2 Comments

Click here to post a comment

  • مدلل مختصر موثر اور عوامی جذبات کی احسن ترجمانی کے ساتھ ساتھ ایک گہری سازش کی نشاندہی کر کے آپنے نے ایک رہنما تحریر لکھ کر اپنا فرضاور اور قرض ادا کر دیا حسان صاحب ۔ کوئی اپنا قبلہ درست کرنا چاہے تو کر گزرے کہ آپ نے اتمام حجت کر دیا ہے ۔

  • مدلل مختصر موثر اور عوامی جذبات کی احسن ترجمانی کے ساتھ ساتھ ایک گہری سازش کی نشاندہی کر کے آپنے نے ایک رہنما تحریر لکھ کر اپنا فرضاور اور قرض ادا کر دیا حسان صاحب ۔ کوئی اپنا قبلہ درست کرنا چاہے تو کر گزرے کہ آپ نے اتمام حجت کر دیا ہے ۔