کالم

اتحاد

عالم اسلام کی سب سے بڑی اسلامی تحریک اخوان المسلمون کو  مصر میں ایک بار پھر کالعدم قرار دے دیا گیا ، ملک بھر میں گرفتاریاں  اور ریاستی جبر وتشدد کے بدترین مظاہرے  دیکھنے میں آرہے ہیں ،،، مسلم دنیا   بے حسی اور مسلم حکمران  بے غیرتی کی چوٹیاں عبور کر رہے ہیں ۔ حالانکہ رابعہ چوک میں ڈیڑھ ماہ تک مسلسل جاری رہنے والے دنیا کے پرامن ترین اور حیرت انگیز دھرنے نے اخوان المسلمون کے اجلے  پن کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کر دیا تھا  ۔۔۔۔


اخوان نے ثابت کیا  کہ وہ آج کی  دنیا کے قیمتی ترین لوگ ہیں ۔۔۔۔۔ انہوں نے دین اسلام کا صحیح فہم حاصل کیا ہے اور اپنے بہترین عمل سے اس کا تصور پوری دنیا کےسامنے پیش کیا ہے ۔اللہ کی وحدانیت پر پختہ ایمان ،رسول اللہ سے محبت کا والہانہ اظہار ،صحابہ کرام کے مشن کی تکمیل کا جذبہ ،دینی و دنیاوی اعلٰی تعلیم کا حسین امتزاج ، صالح اجتماعیت ،بہترین نظم وضبط ،منزل کا شعور ، قیادت اور کارکن  کاایک دوسرے پر اعتماد ،برداشت ، اعتدال اور قربانی وایثار کا لازوال مظاہرہ ،،، سب کچھ ہی تو رابعہ چوک میں سجی بستی میں دکھائی دیا ۔۔۔۔۔۔  ڈاکٹر بلتاجی نے بتایا کہ اسلامی تحریک  سے وابستہ ایک باپ اپنی  بیٹی کی تربیت کس  نہج پر کرتا ہے اور سترہ سالہ شہیدہ  اسما نے دکھایا کہ اسلامی تحریک سے وابستہ ایک نو عمر لڑکی کس طرح مقدس مشن کی تکمیل کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتی ہے ۔ اخوان کے تربیتی نظام نے دنیا بھر کی اسلامی تحریکوں کو باور کرادیا  ہے کہ دین کی سربلندی کیلئے کس درجہ ایمان کی حرارت درکار ہے ، لادینیت زردہ معاشرے میں کس طرح اپنے گھر اور خاندان کو دین سے جوڑے رکھنا ہے۔ اپنے  اہل خانہ کو اخلاق باختہ مغربی تہذیب اور حیا سوز معاشرت سے کیسے محفوظ رکھنا ہے۔۔۔۔ سیکولرازم کے  طوفان میں کس طرح اسلامی تحریک کے کارکن کی فکری ، روحانی اور اخلاقی تربیت کا سامان کرنا  ہے ۔۔۔۔۔ ایک مسلمان کو اپنی ذات اور خواہشات نفس کی تکمیل کے چنگل سے نکال کر،  برادری ،وطن ، رنگ ونسل اور مسلکوں کے تعصبات سے بالاتر کرکے  امت کے اجتماعی دھارے میں کیسے پرونا ہے اور اسلام کی حقانیت اور قرآن کے  نور سے کس طرح اس کے  دل کو  منور رکھنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
رابعہ چوک میں برپا ہونے والی کربلا کا واقعہ  میرے اللہ کا ایسا امتحان تھا جس نے دنیا کا منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے ، اب آنے والے دنوں میں لکھی جانے والی تاریخ رابعہ چوک سے پہلے اور بعد کی تاریخ ہو گی ،۔۔۔۔۔۔۔۔۔، اس لئے کہ اس آزمائش نے کھرے اور کھوٹے کی پہچان واضح کر دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ رابعہ میں بہنے والا خون اس لئے بھی مقدس ہے کہ یہ خون اتفاقی یاحادثاتی ظلم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ اس کا ایک ایک قطرہ بائی چوائس تھا ،،،،اللہ کے محبوب بندوں نے اللہ کے دین کی سربلندی کیلئے اپنے خون کا ایک ایک قطرہ بہ رضا و خوشی نچھاور کیا تھا ،،، رابعہ العدویہ چوک میں جو خون کی ہولی کھیلی گئی اس نے مصر کے موجودہ حکمرانوں کی اسلام دشمنی کھل کر  ظاہر کر دی بلکہ اخوان کے خلاف فوج ، عدلیہ ،میڈیا اور لبرلز کا گٹھ جوڑ واضح ہو گیا اور اس گٹھ جوڑ کے پس پردہ محرکات میں امریکہ کی سازش اور اسرائیل کا دباؤ بھی آشکار  ہو گیا ، اور تو اور مسلمان ممالک کے حکمرانوں کی بزدلی اور امریکی فرمانبرداری اور کاسہ لیسی نے سب کے چہرے عریاں کر دئیے ، یعنی دودھ کا دوھ پانی کا پانی ہو گیا ۔۔۔۔ اوروں کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے ، اپنوں کا کوئی حد سے ہی گرنا دیکھے ! سوچتا ہوں کہ امریکہ و یورپ والے  کس منہ سے انسانی حقوق ، جہوریت ، اور شخصی آزادی کی بات  کریں گے ۔ ۔ ۔ ڈھٹائی ،منافقت اور اخلاقی زوال کی بھی کوئی حد تو ہوتی ہوگی۔۔۔ مگر شاید طاقتور کا کوئی اصول کو ئی نظریہ اور کوئی اخلاق نہیں ہو تا ، اس کی طاقت ہی اس کا اصول ، نظریہ اور اخلاق بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
 ایسے میں دکھ تو اپنوں کا ہوتا ہے ، گلہ اور شکوہ تو اپنوں سے  ہی ہوتا ہے  ، ضرورت ہے کہ اپنے اب متحد ہو جائیں ۔۔۔ تبلیغ اسلام کیلئے چلے کاٹنے والے ہوں یا لشکر اسلام کو سنگلاخ پہاڑوں پر مسلح ٹریننگ دینے والے ہوں ، گلی گلی خلافت  کے پیغام کو تحریروں اور اجتماعات میں عام کر نے والے ہوں یا خانقاہوں اور درباروں میں بیٹھ کر ذکر الٰہی سے زبانوں کو تر رکھنے والے ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آج وقت آگیا ہے کہ ہر  فرقے ، مسلک ،جماعت اور تنظیم سے تعلق رکھنے والے فرد کو امت کے جھنڈے تلے اکٹھا ہو نا پڑے گا ، ایک امت بننا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہیں  شام اور مصر میں بہنے والے مسلم خون سے اظہار یکجہتی کرنا پڑے گی ، قبلہ اول کی آزادی کانعرہ لگانا ہوگا، مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد کو سہارا دینا ہوگا ، حریت کیش افغانوں کا دست و بازو بننا ہو گا ، برما میں دم توڑتی انسانیت کاماتم کرنا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
 سیکولرازم کا پرچارک کرنے والے ، روشن خیا لی کا لبادہ اوڑھنے والے ،خود کو لبرل اور ماڈریٹ کہلانے والے مسلمانوں کے ضمیر اگر زندہ ہیں، ان کے دلوں پر اگر مہر نہیں لگی اور وہ گونگے بہرے اور اندھے نہیں ہو گئے تو وہ بھی جاگیں ۔ خود کو مغرب کے سحر سے آزاد کریں امریکہ و یورپ کے دہرے معیارات اور فرعونیت کا پردہ چاک کریں بندوں کے بنائے ہوئے تہذیبی اصولوں کو جھٹک دیں اور اللہ کے قوانین کے آگے سرنڈر کریں  ، قرآن کا مطالعہ کریں ۔۔۔۔۔۔ اپنا رویہ بدلیں اور دین میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وگرنہ میرے مخاطب  تو وہ ہیں جو اسلام درد رکھتے ہیں جن کی پیشانیوں  پر  سجے محراب ان کی لمبی نمازوں اور طویل سجدوں کا اعلان کر رہے ہوتے ہیں مگر وہ اپنے مسلک فرقے اور تنظیم کے تعصب سے باہر نہیں نکلتے خدارا اب ان کے متحد ہونے کا وقت آگیا ہے ،،،،، عالم کفر ایک ملت بن  چکا ہے ۔۔۔۔۔۔ مسلمانوں کو بھی ملت واحدہ بننا ہو گا ،،،،،،،، مصر کے رابعہ چوک میں بہنے والے مقدس لہو کی قسم ۔۔۔۔ اگر مسلمانوں  نے اس خون کی حرمت کی حفاظت کیئے اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا تو سب چلے  غارت جائیں گے ،،،، معسکروں میں بلند ہونے والے نعرے بے کار ،،،،، ویلفئر   کیلئے کی جانے والی تگ و دو بے اثر اورذکر و وعظ کی مجلسیں بے ثمر ہو جائیں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اٹھو وگرنہ حشر نہ ہوگا یہ پھر کبھی
دوڑو۔۔۔ زمانہ چال قیامت کی چل گیا!

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment