کالم

مرے حضورﷺ دیکھئے ۔۔۔۔!

مصر میں لبرل فاشسٹ ٹولہ ،فاشٹ فوج ، فاشسٹ عدلیہ اور فاشسٹ میڈیا ۔۔۔۔۔۔۔ پرامن، جمہوریت پسند، اسلام پسندوں کے خلاف ظلم و بربریت پر اتر آیا ہے ۔۔۔ امریکہ ،انسانی حقوق کے اداروں اور دنیا بھر کے میڈیا کی منافقت کا پردہ چاک ہوا ہے ۔۔۔جبکہ مسلم حکمرانوں کی بے شرمی بھی واضح ہو گئی ہے ۔۔۔۔ !


مصری سیکیورٹی فورسز کی ننگی  جارحیت سے 2 ہزار سے زائد افراد شہید اور دس ہزار سے زائد زخمی ہو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ آج کی مہذب دنیا نے  درندگی کی ایسی مثال کبھی نہ دیکھی ہو ۔۔۔۔۔ فوجی وحشیوں نے کیمپوں میں موجود دھرنے کا شرکاء   (جن میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے )کو چاروں طرف سے گھیرے میں لیا ۔۔۔۔۔تمام داخلی و خارجی راستے بند کر کے ٹینکوں ،بکتر بند گاڑیوں کو مظاہرین پر چڑھا دیا ، اندھا دھند فائرنگ  کے علاوہ بلند عمارتوں پر کھڑے  فوجی ،مظاہرین پر نشانہ بازی بھی کرتے رہے ،،،، غیر ملکی صحافی بھی انگشت بدندان رہ گئے انہوں نے کہا کہ جنگ زدہ علاقوں میں بھی کسی فوج کا نہتے لوگوں پر اتنا وحشیانہ ظلم نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔ 

رابعہ مسجد کو جلا دیا گیا ،،، النہضہ چوک پر لگے کیمپ خاکستر ہو گئے ،،،، سڑکیں  خون سے بھر گئیں ،،، اردگرد کے میدان ، قاہرہ یونیورسٹی   اور فیلڈ ہسپتال میں لاشوں کے انبار لگ گئے  ،،،،  ، میرے سامنے  ظلم و جبر اور وحشت وبربریت  کے مناظر بکھرے پڑے ہیں ،،،،، معصوم بچیوں کی خون میں لتھڑی لاشیں ،،،، خواتین کو ٹھڈے مارتے ہوئے سفاک فوجی  ،،، خون میں نہائے شہید نوجوان کی لاش سے اسلحہ (قرآن ) برآمد کرتا ہوا  سیکیورٹی اہلکار ،،،  اور ہسپتالوں میں قطار اندر قطار پڑی شہدا کی میتیں  ،،،  (دن رات رابعہ چوک میں دھرنے کے دوران نماز کیلئے صف بستہ رہنے والوں  کی میتیں بھی صفوں کے انداز سے پڑی ہیں ۔)  کس کس تصویر کا نوحہ لکھوں اور کس کا ماتم کروں ۔

ہر  ہر منظر ہی کلیجہ چیر دینے والا ہے ،گویا دکھ ،کرب اور غم کا پہاڑ ہے جو ٹوٹ گرا ہو ،،،،،  عالمی ضمیر مردہ ہو چکا ،،، امریکہ و یورپ اور اقوام متحدہ سے کیسی امیدیں ،،، وہ تو اپنا ایجنڈے کا تحفظ ہی کریں گے ،،، مسلم حکمران امریکی غلامی اور مسلم افواج امریکی کاسہ لیسی میں مشغول ہیں جبکہ مسلم عوام ۔۔۔ وہ بھی فرقوں میں تقسیم در تقسیم در تقسیم ۔۔۔۔ باقی ماندہ خود پرستی اور خود نفسی کے شکنجے میں غلطاں ہیں ،،،، اور میڈیا کے لئے یہ بس ایک خبر ہی ہے ایشو نہیں   ۔۔ایسے میں کس سے فریاد اور کس سے انصاف کی دہائی ۔۔۔۔ سہارا وہ جو سب سے مضبوط ہو ،،،، اسی رب کے حضور  دعا کیلئے ہاتھ اٹھائیے ،،، ہم کہ جنہیں رسم دعا یاد نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اور اُسی رب کے حبیب ﷺ کے سامنے فریاد  ہے ،جس کا علم ا ٹھائے اُس کے پاکباز امتی خون میں نہا گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے حضور دیکھئے پھر آگیا مقام غم
کنار نیل چھا گئی پھر ایک بار شام غم
پھر ایک بار کوئے یار میتوں سے پٹ گئی
 جنوں کی کھیتیاں لٹیں ،سروں کی فصل کٹ گئی
 حضور کی سپاہ کی اک اور صف الٹ گئی  ۔۔۔میرے حضور دیکھئیے ۔۔۔۔۔!
فراعنہ کی سر زمین  ہمیشہ خوں  بہ جام ہے 
ہمیشہ خوں بہ جام ہے یہ پھر بھی تشنہ کام ہے
یہ اک جہان بے سکوں جسے سکوں حرام ہے ۔۔۔میرے حضور دیکھئیے ۔۔۔۔!
صلیب جبر گڑگئی، وہ چوب دار آگئے
صداقتِ حسیں! ترے، وہ جاں نثار آگئے
بہت سے لا اِلہ خواں، کناردار آگئے،میرے حضور دیکھئے ۔۔۔۔!مرے حضور ﷺ دیکھئے ۔۔۔!

About the author

ایڈمن

Add Comment

Click here to post a comment